ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوؤں کواقلیتی درجہ دینے سے متعلق عرضی خارج

ہندوؤں کواقلیتی درجہ دینے سے متعلق عرضی خارج

Wed, 18 Dec 2019 10:22:05    S.O. News Service

نئی دہلی،18/دسمبر (ایس او نیوز/یواین آئی) سپریم کورٹ نے ملک کی آٹھ ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیتی درجہ دینے کے حکم سے متعلق مفادعامہ کی عرضی منگل کو خارج کردی۔چیف جسٹس ایس اے بوبڑے،جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے کی یہ مفاد عامہ کی عرضی خارج کردی۔عدالت نے کہا کہ زبان ایک ریاست تک محدود ہوسکتی ہے،لیکن مذہب کا معاملہ پورے ملک کی بنیاد پر طے ہوتا ہے۔بنچ نے کہا کہ اس کے لئے وہ کوئی ہدایت جاری نہیں کرسکتی۔اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عرضی کی حمایت نہیں کی اوربنچ نے عرضی خارج کردی۔عرضی گزاروں نے آٹھ ریاستوں:جموں و کشمیر، پنجاب، لکشدیپ، اروناچل پردیش،ناگالینڈ،میگھالیہ اور منی پور میں پانچ طبقوں:ہندو، عیسائی، سکھ،بودھ اورپارسیوں کو اقلیتی قرار دینے کا مطالبہ کیاتھا۔ اپادھیائے نے اپنی عرضی میں قومی اقلیتی کمیشن ایکٹ 1992 کی دفعہ 2سی کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیاتھا۔اسی قانون کے تحت 23/اکتوبر 1993کو آرڈننس جاری کیاگیا تھا۔عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیاتھا کہ قومی سطح پر اقلیتی درجے کا تعین نہ ہو بلکہ ریاستوں میں اس طبقے کی تعداد کے پیش نظر اصول بنانے کی ہداہت دی جائے۔ اپادھیائے نے اقلیتوں سے منسلک اس آرڈنینس کو صحت،تعلیم،رہائش جیسے بنیادی حقوق کے خلاف بتایا تھا۔عرضی گزاروں کا کہناتھا کہ قومی سطح پر ہندو بھلے ہی اکثریت میں ہوں لیکن آٹھ ریاستوں میں وہ اقلیت ہیں،اس لئے انہیں اس کا درجہ دیاجانا چاہئے۔


Share: